تحریر: سید زوار حسین نقوی ایڈووکیٹ
حوزہ نیوز ایجنسی| جب ہم تاریخ کے دریچوں سے جھانکتے ہیں تو بعض انقلاب ایسے ملتے ہیں جو نہ صرف ایک ملک کی تقدیر بدلتے ہیں، بلکہ پوری دنیا کی سیاسی، فکری اور مزاحمتی تحریکوں کو نئی روح بخشتے ہیں۔
22بہمن (یعنی 11 فروری1978ء) کا دن ایسا ہی ایک سنگ میل ہے جب ایران میں اسلامی انقلاب نے اپنی حتمی فتح حاصل کی۔ اس انقلاب نے2500 سال پرانی بادشاہت کا خاتمہ کیا اور ایک ایسے اسلامی جمہوریہ کی بنیاد رکھی جو آج بھی ظلم، استعمار اور سامراج کے خلاف مزاحمت کی علامت ہے۔ آج، جب ہم اس انقلاب کو یاد کرتے ہیں تو اس کے اثرات کو صرف ایران تک محدود نہیں رکھ سکتے؛ یہ فلسطین کی تحریک پر بھی گہرے اثرات چھوڑ چکا ہے، جہاں مظلوم قومیں اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہیں۔انقلاب سے قبل ایران شاہ محمد رضا پہلوی کی آمرانہ حکومت کا شکار تھا، جو مغربی طاقتوں خاص طور پر امریکہ کی حمایت سے چل رہی تھی۔
سفید انقلاب کے نام پر جدید کاری کی آڑ میں روایتی اسلامی اقدار کو کچلا جا رہا تھا، معاشی عدم مساوات بڑھ رہی تھی اور SAVAK کی خفیہ پولیس نے ہر آواز کو دبانے کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔
آیت الله روح اللہ خمینی، جو1963سے جلاوطنی میں تھے، نے عراق اور فرانس سے انقلاب کی قیادت کی۔
ان کے پیغامات کیسٹوں کے ذریعے عوام تک پہنچتے اور بغاوت کا شعلہ بھڑکاتے۔1978ء میں احتجاجات شدت اختیار کر گئے، جمعہ سیاہ (8 ستمبر1978) میں سینکڑوں مظاہرین شہید ہوئے۔16 جنوری 1979ء کو شاہ ایران سے فرار ہو گیا اور امام خمینی کی واپسی1 فروری 1979ء کو ہوئی۔ یہ نہ صرف ایک سیاسی تبدیلی تھی بلکہ ایک فکری اور روحانی بیداری بھی، جو مظلوم اقوام کی حمایت پر مبنی تھی۔
انقلاب کے فوراً بعد ایران نے فلسطین کو اپنی خارجہ پالیسی کا مرکزی نقطہ بنایا۔ امام خمینی نے فلسطین کو ''مظلوم قوم'' قرار دیا اور اسے ایران کی جدوجہد کا تسلسل سمجھا۔ انقلاب سے پہلے ہی،1960 کی دہائی میں ایرانی بائیں بازو اور فلسطینی تحریک کے درمیان روابط تھے، لیکن انقلاب نے اسے نئی جہت دی۔ شاہ کے دور میں ایران اسرائیل کا اتحادی تھا، مگر انقلاب نے تہران میں اسرائیلی سفارت خانہ فلسطینیوں کو دے دیا۔ امام خمینی نے رمضان کے آخری جمعہ کو یومِ قدس قرار دیا، جو آج دنیا بھر میں فلسطین کی حمایت کا دن ہے۔ یہ فلسطینی انٹی فادا (انتفاضہ) کو متاثر کرنے والا اہم عنصر بنا، جہاں عوامی مزاحمت کی حکمت عملی اپنائی گئی۔
ایران نے حماس (سنی گروپ) اور حزب اللہ (شیعہ) کو فوجی، مالی اور تکنیکی مدد فراہم کی۔ یہ حمایت انقلاب کی اصولوں پر مبنی ہے، جو مظلوموں کی آزادی کو اسلام کا حصہ سمجھتے ہیں۔ نتیجتاً، فلسطینی تحریک نے نئی طاقت حاصل کی، خاص طور پر اسرائیل کے خلاف مزاحمت میں۔ ایران کی مدد سے حماس اور حزب اللہ نے میزائل ٹیکنالوجی حاصل کی، جو علاقائی توازن کو بدل رہی ہے۔انقلاب نے سنی اور شیعہ اسلامسٹ گروپوں کو متاثر کیا، جیسے فلسطینی اسلامی مزاحمت، یہ نہ صرف شیعہ، بلکہ سنی مزاحمتی تحریکوں کو بھی تقویت دی، جو آج غزہ اور لبنان میں نظر آتی ہے۔
انقلاب نے فلسطین کو ''اسلامی اتحاد'' کا مسئلہ بنا دیا، جس سے عرب دنیا میں بھی تبدیلیاں آئیں۔ تاہم، یہ حمایت ایران کو مغربی پابندیوں کا شکار بھی کرتی ہے۔فلسطین کی جدوجہد آج بھی انقلاب کی روشنی میں دیکھی جاتی ہے، جہاں عوامی طاقت اور ایمانی جذبہ کلیدی ہیں۔
انقلاب ہمیں بتاتا ہے کہ اتحاد، مذہبی ہم آہنگی اور بین الاقوامی حمایت سے آزادی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
فلسطین مظلوم قوم ہیں، اور انقلاب کی میراث یہ ہے کہ مسلمانوں کو متحد ہو کر ان کی حمایت کرنی چاہیے۔ یہ بات اہم ہے کہ ہم اپنی جدوجہد کو انقلاب کی روشنی میں دیکھیں، تاکہ نوجوان نسل کو نئی امید ملے۔
22بہمن کا دن محض ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ ظلم کے خلاف مزاحمت کی زندہ مثال ہے۔ اس نے فلسطین جیسی تحریک کو نئی روح بخشی، جہاں عوامی طاقت اور اسلامی اتحاد کلیدی ہیں۔آج، جب ایران پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، اس کی فلسطین اور کی حمایت جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ مظلوم اقوام کو آزادی عطا فرمائے اور ہمیں انقلاب کے سبق پر عمل کرنے کی توفیق دے۔
نوٹ: حوزہ نیوز پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں؛ حوزہ نیوز اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔









آپ کا تبصرہ